Popular Posts

Qadri Blog

Tuesday, 17 March 2015

بولو مین تیرا استاد







  بول مین تیرا استاد


u

نمک پارےh



گلاب 


یہ ھم کو یہ عشق غلط فہمیوں مین ڈال دے گا
ورنہ مین ہون ضروری نہ تو ضروی ہے
موسموں کا ستم تو تھا پھر بھی
ایک ہنستا گلاب باقی ہے

Friday, 13 March 2015

ہو گئے ہم کتنے اب تم سے دُور






ہو گئے ہم کتنے اب تم سے دُور


ہو گئے ہم کتنے اب تم سے دُور
کرتا ہے دِل بار بار ملنے پر مجبور
چاند کو دیکھا تو جب یاد آئے تم
چہرہ تمہارا چاند جیسا چاند جیسا نور
خوبصورت ہو اتنی دنیا میں کوئی بھی نہیں
لگتا ہے آسمان سے کوئی اُتری ہے حور
ہوش تو کھو گئے مِلے ہو جب سے تم
اب تو صرف رہتا ہے تیرا ہی سرُور
تعریف کی ہے ہم نے تیری چند لفظوں میں
کرنا نہ تو اپنے حسین چہرے پہ غرور

Thursday, 12 March 2015

تیرا آنچل





کاجل تیرا بَہہ بَہہ کے رُلائے مجھے اَب بھی
رَہ رَہ کے مجھے اَب بھی پکارے تیرا آنچل






Talked with YOu









Thought of Beauty 


When I talked with your quite eyesLove starts with  your beautiful lipsI gone lost myself in thought of yours PrettinessI never ever know. What time startsmy day and night?




قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق


قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق

 

 
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
سچ تو يہ ہے بری بلا ہے عشق
 
اثر غم ذرا بتا دينا
وہ بہت پوچھتے ہيں کيا ہے عشق
 
آفت جاں ہے کوئی پردہ نشيں
مرے دل ميں آ چھپا ہے عشق
 
کس ملاحت سرشت کو چاہا
تلخ کامی پہ با مزا ہے عشق
 
ہم کو ترجيح تم پہ ہے يعني
دل رہا حسن و جاں رہا عشق


Thursday, 5 March 2015

جب سے دیکھا پَری جمالوں کو

Tuesday, 3 March 2015

جھومر ہے تیرا چاند ستارے تیرا آنچل


جھومر ہے تیرا چاند ستارے تیرا آنچل 





جھومر ہے تیرا چاند ستارے تیرا آنچل
لہرائے سدا آنکھ میں پیارے تیرا آنچل
جھومر ہے تیرا چاند ستارے تیرا آنچل
اَب تک میری یادوں میں ہے رنگوں کا تلاطَم
دیکھا تھا کبھی جھیل کنارے تیرا آنچل
لپٹے کبھی شانوں سے کبھی زُلف سے اُلجھے
کیوں ڈُھونڈھتا رہتا ہے سہارے تیرا آنچل
مہکیں تیری خوشبو سے دہکتی ہوئی سانسیں
جب تیز ہوا خود سے اتارے تیرا آنچل
آنچل میں رَچے رنگ نکھاریں تیری زلفیں
اُلجھی ہوُئی زُلفوں کو سنوارے تیرا آنچل
اس وقت ہے تتلی کی طرح دوشِ ہوَا پر
اس وقت کہاں بس میں ہمارے تیرا آنچل
کاجل تیرا بَہہ بَہہ کے رُلائے مجھے اَب بھی
رَہ رَہ کے مجھے اَب بھی پکارے تیرا آنچل



 شاعر محسن نقوی