Popular Posts
-
جھومر ہے تیرا چاند ستارے تیرا آنچل جھومر ہے تیرا چاند ستارے تیرا آنچل لہرائے سدا آنکھ میں پیارے تیرا آنچل جھومر ہے تیر...
-
Love your warm body I loved with your warm body The smell of the your wet body Likes as Sandalwood and rose flower of aroma ...
-
ایک شوہر اپنی بیوی کو آنگریزی سکھا رہا تھا شوہر دیکھو بیگم ناشتہ کو انگریزی میں کہتے ہیں بریک فاسٹ [Breakfast] دوپہر کے کھانے کو کہ...
-
تبسم تبسم شخصیت کو نکھارتی ہے۔ اور ایک روشنی کی مانند ہے جواپ کی ذات کی مندرجہ ذیل صفات کو ظاہر کرتی۔ آپ کتنے وسی...
-
محبت کی لذت میری محبت چاہت و الفت ہومیری جان تمنا میری ایک چھوٹی سی دلی خواہش ہے تم سے روز جاگا کرینگےتاریک رات تنہائ وخاموشی ...
-
شادی کیا ہہے افسانے زندگی کا تحریر قادری شادی ایک کھلی جیل ہے۔ نہ سزا تو ملتی ہے مگر بولنے کا حق نہیں مرد کو اٹھا تی ہے ...
-
Thought of Beauty When I talked with your quite eyes Love starts with your beautiful lips I gone lost myself in thought of y...
Qadri Blog
Friday, 27 March 2015
Tuesday, 24 March 2015
Tuesday, 17 March 2015
بولو مین تیرا استاد
Friday, 13 March 2015
ہو گئے ہم کتنے اب تم سے دُور
ہو گئے ہم کتنے اب تم سے دُور
ہو گئے ہم کتنے اب تم سے دُور
کرتا ہے دِل بار بار ملنے پر مجبور
چاند کو دیکھا تو جب یاد آئے تم
چہرہ تمہارا چاند جیسا چاند جیسا نور
خوبصورت ہو اتنی دنیا میں کوئی بھی نہیں
لگتا ہے آسمان سے کوئی اُتری ہے حور
ہوش تو کھو گئے مِلے ہو جب سے تم
اب تو صرف رہتا ہے تیرا ہی سرُور
تعریف کی ہے ہم نے تیری چند لفظوں میں
کرنا نہ تو اپنے حسین چہرے پہ غرور
Thursday, 12 March 2015
Talked with YOu
Thought of Beauty
When I talked with your quite eyesLove starts with your beautiful lipsI gone lost myself in thought of yours PrettinessI never ever know. What time startsmy day and night?
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
سچ تو يہ ہے بری بلا ہے عشق
اثر غم ذرا بتا دينا
وہ بہت پوچھتے ہيں کيا ہے عشق
آفت جاں ہے کوئی پردہ نشيں
مرے دل ميں آ چھپا ہے عشق
کس ملاحت سرشت کو چاہا
تلخ کامی پہ با مزا ہے عشق
ہم کو ترجيح تم پہ ہے يعني
دل رہا حسن و جاں رہا عشق
![]() |
Thursday, 5 March 2015
جب سے دیکھا پَری جمالوں کو
شاعر ساغر صدیقی
جب سے دیکھا پَری جمالوں کو
جب سے دیکھا پَری جمالوں کو مَوت سی آ گئی خیالوں کو دیکھ تشنہ لبی کی بات نہ کر آگ لگ جائے گی پیالوں کو پھر اُفق سے کِسی نے دیکھا ہے مُسکرا کر خراب حالوں کو فیض پہنچا ہے بارہا ساقی تیرے مستوں سے اِن شوالوں کو دونوں عالم پہ سرفرازی کا ناز ہے تیرے پائمالوں کو اس اندھیرروں کے عہد میں ساغر کیا کرے گا کوئی اُجالوں کو
Tuesday, 3 March 2015
جھومر ہے تیرا چاند ستارے تیرا آنچل
جھومر ہے تیرا چاند ستارے تیرا آنچل
جھومر ہے تیرا چاند ستارے تیرا آنچل
لہرائے سدا آنکھ میں پیارے تیرا آنچل
جھومر ہے تیرا چاند ستارے تیرا آنچل
اَب تک میری یادوں میں ہے رنگوں کا تلاطَم
دیکھا تھا کبھی جھیل کنارے تیرا آنچل
لپٹے کبھی شانوں سے کبھی زُلف سے اُلجھے
کیوں ڈُھونڈھتا رہتا ہے سہارے تیرا آنچل
مہکیں تیری خوشبو سے دہکتی ہوئی سانسیں
جب تیز ہوا خود سے اتارے تیرا آنچل
آنچل میں رَچے رنگ نکھاریں تیری زلفیں
اُلجھی ہوُئی زُلفوں کو سنوارے تیرا آنچل
اس وقت ہے تتلی کی طرح دوشِ ہوَا پر
اس وقت کہاں بس میں ہمارے تیرا آنچل
کاجل تیرا بَہہ بَہہ کے رُلائے مجھے اَب
بھی
رَہ رَہ کے مجھے اَب بھی پکارے تیرا آنچل
شاعر محسن نقوی
Subscribe to:
Posts (Atom)







