Popular Posts

Qadri Blog

Thursday, 12 March 2015

قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق


قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق

 

 
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
سچ تو يہ ہے بری بلا ہے عشق
 
اثر غم ذرا بتا دينا
وہ بہت پوچھتے ہيں کيا ہے عشق
 
آفت جاں ہے کوئی پردہ نشيں
مرے دل ميں آ چھپا ہے عشق
 
کس ملاحت سرشت کو چاہا
تلخ کامی پہ با مزا ہے عشق
 
ہم کو ترجيح تم پہ ہے يعني
دل رہا حسن و جاں رہا عشق



ديکھ حالت مری کہيں کافر
نام دوزخ کا کيوں دھرا ہے عشق
 
ديکھیے کس جگہ ڈبو دے گا
ميری کشتی کا نا خدا ہے عشق
 
آپ مجھ سے نباہيں گے سچ ہے
با وفا حسن بے وفا ہے عشق
 
قيس و فرہاد وامق و مومن
مر گئے سب ہی کيا وبا ہے عشق

No comments:

Post a Comment