مححبت کو مجبوری کا
نام نہ دینا
محبت مجبوری نہیں دو
دلوں قدرتی کی خواہش ہے
محبت ایک خوش گوار
جذبہ ہے دو عاشقون کا
دوستی زبانی وعدہ وفا
ہے محبت کشمکش ہے جوانی کی
محبت حقیقی ہوتوعبادت الہی مجازی ہو فرض خدا وندی
محبت ہی الفت، عشق
حوصلہ، خوشی وغم کو نبھانے کا نام
دوستی اعتماد، مدد،
جفا کشی ،تن من دھن کی بازی لگانے کا جذبہ
محبت نہیں تو کچھ بھی
نہیں دوستی ہے تو زندگی ہے
گھڑیوں سے کھیلنے وال
کلیان محبت ودوستی کیا جانے
Syeda fatima originally shared to


No comments:
Post a Comment